ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / صرف تین طلاق ہی کیوں؟ مکمل اسلامی قانون ختم کیا جانا چاہئے،تسلیمہ نسرین کامتنازع بیان، کہاانسانیت کیلئے مساوات پر مبنی جدید قانون کی ضرورت 

صرف تین طلاق ہی کیوں؟ مکمل اسلامی قانون ختم کیا جانا چاہئے،تسلیمہ نسرین کامتنازع بیان، کہاانسانیت کیلئے مساوات پر مبنی جدید قانون کی ضرورت 

Wed, 23 Aug 2017 11:21:05    S.O. News Service

نئی دہلی،22اگست(ایس او نیوز/آئی ا ین ایس انڈیا)سرخیوں میں چھائے تین طلاق کے معاملے پر منگل کو سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنایا جس پر لوگوں کی الگ الگ رائے سوشل میڑیا پر دیکھنے کو ملی۔وہیں بدنام زمانہ جلاوطن بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین نے منگل کو سپریم کورٹ کے تین طلاق کو ختم کرنے کے فیصلے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ یقینی طور پر خواتین کی آزادی نہیں ہے اور اس سے آگے جا کر 1400سال پرانے قرآن کے قوانین کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔تسلیمہ نے ٹویٹ کیا کہ تین طلاق کو ختم کرنا یقینی طور پر خواتین کی آزادی نہیں ہے،خواتین کو تعلیم یافتہ بنانے کی ضرورت ہے اور انہیں خود کفیل ہونا چاہئے۔

ہندوستان میں جلاوطنی میں رہنے والی تسلیمہ نے کہاکہ 1400سالہ قران کا قانون ختم ہو جانا چاہئے،ہمیں مساوات پر مبنی جدید قانون کی ضرورت ہے۔ایک ساتھ کئے گئے کئی ٹوئٹس میں تسلیمہ نے کہا کہ صرف تین طلاق ہی کیوں؟ مکمل اسلامی قانون یا شرعی قانون ختم کیا جانا چاہئے،تمام مذہبی قوانین کو انسانیت کے لئے ختم کیا جانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ مذہب کے ساتھ تمام مذاہب اور روایات مخالف خواتین ہیں۔

تسلیمہ مسلم مخالف بیانات کیلئے مشہورہے۔تسلیمہ نے کہا کہ تین طلاق قرآن میں نہیں ہے۔قرآن میں بہت سی ناانصافیاں اور عدم مساوات موجود ہیں، کیا اسے رکھنا چاہیے؟ عدالت کا فیصلہ آنے سے پہلے مصنفہ نے ٹویٹ کیا تھاکہ ہندوستان کے ترقی پسند لوگ تین طلاق کو ختم کئے جانے کا انتظار کر رہے ہیں۔


Share: